میرا اپنا اندازہ ہے

میرا اپنا اندازہ ہے(خدا کرے کہ وہ غلط ثابت ہو.)کہ
مذہبی لوگوں کی اکثریت دشنام ترازی,تمسخر اور ہلڑ بازی کو ناپسند نہیں کرتی,بلکہ یہ چیزیں ان پر صرف اس وقت ناگوار گذرتی ہیں جب ان کے ممدوح کے ساتھ ایسا کیا جائے.

لیکن اگر ان سے اختلاف رائے رکھنے والے کا نام بگاڑنے سے لے کر اس کی پیدائش تک کا مذاق بنایا جائے یا اس کے والدین کے کردار پر انگلی اٹھائی جائے تو نہ صرف یہ کہ ان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا بلکہ باقاعدہ تحسین وتائید سے بھی نوازا جاتا ہے.

جو لوگ اپنے ممدوح کے متعلق دو نازیبا جملوں پر چراغ پا ہوجاتے ہیں,آپ دیکھیں گے کہ دوسروں پر لمبی لمبی بھدی تحریروں پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے!!

ان میں زیادہ تر لوگ اب تک اس خوش فہمی میں گرفتار ہیں کہ ہمارے ممدوح کی شان میں گستاخی کرنے والا خاتمہ بالخیر سے محروم ہوجاتا ہے,جب کہ دوسروے تمام لوگوں کی دھجیاں اڑانے سے آخرت میں امام الانبیا کے قرب خاص سے سرفراز کیا جاتا ہے.

ایسا نہیں ہے کہ سب ہی ایسے ہوں, بعض حضرات اس سلسلے میں بڑے محتاط واقع ہوئے ہیں,ان کو مغتنم روزگار سمجھنا چاہیے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *