کشمیر پر پاکستانی موقف کی فتح ـ

کشمیر پر پاکستانی موقف کی فتح ـ

پاکستانی سلامتی کونسل میں صرف ون پؤائنٹ ایجنڈہ لے کر گیا تھا ـ کشمیریوں کے انسانی حقوق ـ پاکستان نے نہ تو ۳۷۰ کو نہ ہی ۳۵ اے کو اہمیت دی ـ عالمی برادری بہت پہلے اس کا فیصلہ کر چکی ہے کہ کشمیر کشیمیریوں کا ہے اور وہی فیصلہ کریں گے ـ لہذا ہمیں اس پر مغز ماری کرنے کی ضرورت نہیں ،، انڈیا نے ۳۷۰ پہ بات کرنے کی کوشش کی تو اس کو شٹ اپ کہہ دیا گیا کہ ایجنڈے میں یہ مُدہ شامل ہی نہیں لہذا اس پر بات نہیں ہو سکتی ، آپ یہ بتایئے کہ کیا کشمیریوں کو نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے ؟ بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں ؟ فون ، انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہیں ؟ اسکول کالجز تک رسائی حاصل ہے ؟ ظاھر ہے انڈیا کا جواب نفی میں تھا ، لہذا اس کو فوری طور پر کشمیریوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے کہا گیا ـ
پاکستان کی وزارتِ خارجہ ، پرائم منسٹر ہاؤس اور عسکری ادارے نے ایک مٹھی بن کر ایک ہی ایجنڈے پر کام کیا ، پرائم منسٹر نے ٹرمپ کے ساتھ بات چیت میں بھی انسانی حقوق کو ہی موضوع بنایا ،، اپنے ٹویٹس میں بھی دنیا کو جھنجھوڑا کہ کیا تم ایک اور نازی جرمنی بنانے چلے ہو؟ کیا پھر ھولوکاسٹ کروانا ہے ؟ کیا پھر بوسنیا ھرسیگوینا اور سربنسکا کو دہرایا جائے گا ؟؟؟ ملٹری اداروں نے بھی دنیا کو جتا دیا ہے کہ پاکستان جب بھی کشمیر میں گیا وہ انسانی المیئے کو بچانے کے لئے ہی جائے گا ـ اور طے شدہ پالیسی بھی یہی ہے اب انڈیا سے کھڑاک انہی انسانی حقوق پر ھو گا ، جس طرح انڈیا مشرقی پاکستان میں دو قومی نظریئے کو لے کر نہیں گیا تھا بلکہ انسانی حقوق کے نام پر دنیا کو اپنی پشت پر کھڑا کر کے گیا تھا اور ہم داخلی معاملہ ،داخلی معاملہ کا منتر پڑھ رہے تھے ، بالکل یہی لائن اب پاکستان نے لی ہے ،
یہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ انڈیا نے لینڈ لائنز بحال کر دی ہیں ،کرفیو میں وقفہ دے دیا ہے اور دنیا سے وعدہ کیا جا رہا ہے کہ ہم کشمیر میں اپنی فوجی موجودگی میں معتد بہ کمی کریں گے ـ
کوئی زمانہ تھا دنیا پہلے امریکی اسٹیبلشمنٹ میں لابی کر کے وائٹ ہاؤس تک رسائی پاتی تھی آج ٹرمپ سے سلام دعا بڑھا کر اسٹیبلشمنٹ تک رسائی ہوتی ھے ،، عمران خان کے دورے میں یہ مقصد حاصل کر لیا گیا تھا ،، اسی ٹرمپ کے دفتر میں ایک انڈین ترجمان ھوا کرتی تھی ، اس کی چند ماہ میں چھٹی کر دی گئ ہے ، ٹرمپ انتظامیہ انڈیا سے تیزی کے ساتھ دوری پیدا کر رہی ہے اور یہ بات انڈیا بہت اچھی طرح جانتا ہے ،، الحمد للہ پاکستان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *