جہیز ، بیماری اور غربت

جہیز ، بیماری اور غربت
✍️ فانوس صفدر سید
انسان بسا اوقات کسی مسئلہ کا شکار ہوتا ہے ، اور اس کی پریشانی کے سبب ذہنی طور پر اتنا مفلوج ہو جاتا ہے کہ اس کی جنت نظیر زندگی اجیرن بن کر رہ جاتی ہے ، لیکن دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ کئی لوگ ایک نہیں کئی بڑے بڑے مسائل کا شکار ہوتے ہیں ، وہ زندگی کا پہیہ کیسے رواں رکھے ہوئے ہوتے ہیں اس کا تخیل بھی شاید ہمارے بس کی بات نہیں.
آج میں جس فیملی کا دکھ سکھ آپ کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہوں ان کے بھی فقط تین مسائل ہیں.جن کا ذکر عنوان میں موجود ہے ، لف ونشر غیر مرتب کے طور پر ان کے مسائل کا اختصارًا ذکر کیے دیتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے آپ ان کی جس پہلو سے چاہئیں ہیلپ کر دیجئے.
اس خاندان کا پہلا مسئلہ مستقل غربت ہے یہ گھرانہ دس افراد پر مشتمل ہے. میاں ، بیوی اور ان کے آٹھ بچے ہیں. بڑی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شادی شدہ ہے اور وہ بیٹا اپنے والدین سے علیحدہ ہے. باقی کے سات افراد کے لئے صرف 10/12 کا ایک ہی کچاپکا کمرہ ہے.وہی کچن بھی ہے اور وہی بیڈ روم بھی اور ساتھ اسی کمرہ کو اضافی طور پر گیسٹ روم کا درجہ بھی حاصل ہے . باپ کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے اور سخت بیمار بھی ، ماں کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے ، خاندان کا واحد کفیل ایک بیٹا ہے جس کی عمر انیس سال کے لگ بھگ ہوگی. انیس سال کے مزدور کی مزدوری سے گھر کے اخراجات کس طرح پورے ہوتے ہوں گے اس کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں . سننے میں آیا ہے کہ اکثر روکھی سوکھی اور فاقوں پر گزارہ ہوتا ہے.
دوسرا مسئلہ بیماری ہے گھر کا سربراہ چھ ، سات ماہ سے آنتوں کی بیماری میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے اس کا اکثر وقت چارپائی پر گزرتا ہے ، وقتِ مناسب پر موزوں علاج نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز بیماری بگڑتی ہی جارہی ہے.
اور تیسرا مسئلہ جہیز کا ہے بیٹی کی شادی تیار ہے.غربت ، بھوک اور بیماری کے ساتھ ساتھ شادی کی تیاری نے اہل خانہ کو مزید پریشانی میں مبتلا کیا ہوا ہے. اگر آپ یہ کہیں کہ زیادہ جہیز سے تو پرہیز کرنا چاہیے تو میں بھی اس بات کا قائل ہوں لیکن اس کا نفاذ ہمیشہ کی طرح اوپر کی جانب سے ہوکر آئے گا تب ہی معاشرے سے اس رسم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکتا ہے وگرنہ شاید غرباء اگر یہ شرائط رکھیں تو ان کی بچیوں کے تو رشتے ہی آنا بند ہوجائیں…!!!
•دنیا میں کتنے غم ہیں میرا غم پھر بھی کم ہے
اوروں کے غم دیکھے تو میں اپنا غم بھول گیا•

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *