پیار،شفقت ،محبت،الفت یہ ایسی چیزیں ہیں جس سے بگڑے کام سنور جاتے ہیں

سراپائے شفقت
✍فانوس صفدر سید
پیار،شفقت ،محبت،الفت یہ ایسی چیزیں ہیں جس سے بگڑے کام سنور جاتے ہیں، جس سے بگڑے لوگ سدھر جاتے ہیں اور جس سے بگڑے حالات سنبھل جاتے ہیں.اور خصوصا اگر اللہ تعالی نے آپ کو اولاد کی نعمت سے نوازا ہے ،اب اس میں تعمیم ہے خواہ وہ اولاد حقیقی ہو یا روحانی. آپ حقیقی باپ ہیں یا استاذ کی صورت میں روحانی باپ.
پھر تو آپ کو محض شفقت کا رویہ ہی اختیار نہیں کرنا چاہئے بلکہ آپ کو مجسم سراپائے شفقت ہونا چاہئے. کبھی موازنہ کیجئے گا اپنا اور ان لوگوں کا جن کو اولاد حقیقی یا روحانی سے محروم رکھا گیا.ان کی زندگی میں مایوسیاں کس قدر ہوتی ہیں،ان کی حسرتیں کس عروج پہ ہوتی ہیں اور وہ آپ ایسے صاحبان اولاد کو کس طرح نگاہ حسرت سے دیکھتے ہیں. ان جذبات و کیفیات کو سمجھنا اس لیے بھی ممکن نہیں کہ ہم ان سے دوچار نہیں ہوئے.آپ کو ایک واقعہ سنائے دیتا ہوں جس سے آپ کو ان جذبات کی شدت کا اندازہ ہوجائے گا.ایک دوست نے گھر کال کی ہوئی تھی انتہائی غصہ کے عالم میں تھے، بے تھکان بولے جارہے تھے اور دوران گفتگو گالیوں کا استعمال بھی کرلیتے اور لگ یوں رہا تھا کہ اگلے نے ایسا کوئی بھیانک جرم کرلیا ہے جس جرم پہ اس کی سزا کم از کم موت ہونی چاہئے.
کال جیسے ختم ہوتی ہے دوسرے دوست حالات سے واقفیت اور تسلی دینے کی غرض سے آگے بڑھتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں ایسا کیا ہوا جو آپ اس قدر غصے میں تھے.انہوں نے اپنے بیٹے کا نام لیکر بتایا کہ وہ میٹرک کے امتحان میں کامیاب نہیں ہوسکا. یہ سننا تھا کہ تسلی دینے والے کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں.اور اس نے ایک ایسا جملہ کہا جو آب ذر سے لکھے جانے کے قابل ہے.اس نے کہا آپ تسلی رکھیں اللہ تعالی سب بہتر فرما دےگا لیکن “تھا تو فیل ہوا”، یعنی فیل ہونا افسوس کی بات ضرور ہے لیکن اس کس قدر بھی نہیں کہ آپ بیٹے کو اتنا پریشرائز کریں کہ اس کے پاس صرف ایک آپشن ”اپنی جان سے کھیلنے” کا بچے.
تسلی دینے والے کیوں کہ خود اولاد کی نعمت سے محروم تھے وہ اس کو بتانا چاہتے تھے.اولاد کے جرم اور کوتاہی تکلیف دہ ضرور ہوتے ہیں لیکن فقط اولاد کا وجود بھی کس قدر آنکھوں کی لئے ٹھنڈک اور روح کی تسکین کا ذریعہ ہے،اسکی قدر ہم سے پوچھیں. اس لیے اولاد کے معاملات کا حل شفقت کے ساتھ کیا جائے تو بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں.
میں یہ بات فخر سے کہتا ہوں میری کتاب زندگی والدین اور اساتذہ کی شفقت سے بھری پڑی ہے.شاہد محمود صاحب اگر شفقت نہ فرماتے تو شاید میں تعلیم و تعلم کی شاہراہ کا راہی ہی نا بن پاتا،جامعہ کی ابتدائی کلاسوں میں احمد حسن خان مدنی جیسا مشفق ناملتا تو میں پہلے کی طرح بیک بینچر ہی رہتا، آواخر کے سالوں میں گل رضا صاحب
کا شفیقانہ رویہ میسرناہوتا تو میرے لیے تعلیم کو تکمیل کے درجے تک پہنچانا مشکل ہوجاتا اور شفقت کا احاطہ بہت وسیع ہوتا ہے طالب علم چاہئے جس اعلی درجہ کو پہنچ جائے وہ اپنے اساتذہ کی شفقت کا محتاج ہی رہتا ہے. میں نے ایم.فل کی مشاکل و مصائب سنے تھے لیکن جب یہاں بھی ڈاکٹر منظور احمد اعوان اور ڈاکٹر عابد اللہ عابد ایسے شفیق اساتذہ ملے تو پھر کوئی مشکل،مشکل نہ رہی اور تمام مراحل باآسانی طے ہوتے گئے.
اور بے شفقتی نے کئیؤں کے مستقبل تاریک کیے ہیں. ہم اپنے چھوٹے بھائی محمد عباس کو قرآن مجید حفظ کروانا چاہتے تھے اس کو جس قاری صاحب کے پاس لیکر گئے وہ اس وقت ایک طالب علم کو بےدردی سے مار رہے تھے اس کو دیکھ کے بھائی اتنے بری طرح سہم گئے کہ گھر واپسی پہ کہنے لگے مجھ سے جو کام کروا لیں لیکن میں نے حفظ نہیں کرنا اور ان کے ڈر کا یہ عالم تھا کہ دو تین بخار کی کیفیات میں رہے.کاش وہ شفقت کا رویہ رکھتے تو آج میرا بھائی بھی حفظ کی نعمت سے مالا مال ہوتا.

وجہ_تحریر; پچھلے دنوں یونیورسٹی جانا ہوا، اساتذہ کی ملاقات سے قبل دل میں خوف کی کیفیات سی تھیں لیکن جب پہلے ڈاکٹر منظور احمد اعوان سے اور بعد میں ڈاکٹر عبداللہ عابد صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان کی جانب سے اتنی شفقت میرے حصے میں آئی جو میری سوچ سے بھی بالاتر تھی. میں نے سوچا کیوں نا اپنے اندر کی کیفیات کو الفاظ کا جامہ پہنایا جائے کیونکہ مجھ جیسے شخص سے جب کوئی شفقت کا رویہ روا رکھتا ہے تو مجھے انتہاء درجے کی خوشی بھی ہوتی ہے اور حیرت بھی کیونکہ میں شفقت وصولنے کا کوئی سبب نہیں رکھتا,شکل واجبی سی،دیہاتی لب ولہجہ اوردل موہ لینے والی عادات سے کوسوں دور… خیر پھر بھی جو کوئی شفقت کرتا ہے تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ وہ “سراپائے شفقت” ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *