بچپن کی آپ بیتی


✍️فانوس صفدر سید
چھوٹے ہوتے کے کئی ایسے واقعات جو ذہن کی تختی پہ اس انداز سے نقش ہیں کہ ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش کے باوجود بھی چھٹکارا حاصل نہیں ہو سکتا ، اور ان واقعات کے اثرات سے محفوظ رہنے کی جتنی بھی کوشش کی جائے وہ بار آور ثابت نہیں ہوپاتی. کچھ اپنے ساتھ بیتے واقعات محض اس نیت سے شیئر کرنے لگا ہوں کہ ہم اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ ایسا شفقت بھرا اور مثبت رویہ رکھیں جس کا ان کی زندگی پر ہمیشہ اچھا اثر مرتب ہو.یہ بہت پہلے کا قصہ ہے میں اپنے ایک بہت ہی قریبی رشتہ دار کے پاس گیا ہوا تھا ، جو رشتے میں اور عمر دونوں میں مجھ سے بہت زیادہ بڑے تھے. انہوں نے کسی دکان سے سودا سلف خریدنا تھا انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا ، میں بھی خوشی خوشی ساتھ ہولیا کہ چلو باہرگردی ہوجائے گی اور بچپنے میں یہ بھی کسی خوشی سے کم نہ تھی.انہوں نے کافی سودا سلف خریدا، جسے دیکھتے ہوئے دکاندار نے انہیں کولڈ ڈرنک کی آفر کی ، اس وقت تک کولڈ ڈرنک کو بوتل سے موسوم کیا جاتا تھا وہ بھی کافی تھک چکے تھے بغیر تاخیر کے انہوں نے دکاندار کی آفر کو قبول کرتے ہوئے سر ہاں میں ہلا دیا. ڈھکن کھول کر بوتل پیش کی گئی تو موصوف نے بوتل کو آڑے ہاتھوں لیا.میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا جہاں انہوں نے اتنا سارہ سامان لیا ہے اور یہ بوتل تو انہیں ویسے فری میں مل گئی ہے یہ مجھے الگ بوتل لے دیتے ، یہ مجھےآدھی بوتل پہ ہی ٹرکائیں گے، اتنی کفایت شعاری بھی اچھی نہیں ہوتی.بچپن میں ان چیزوں کا کتنا شوق ہوتا ہے ہر ایک اندازہ لگا سکتا ہے میں سوچ بھی رہا تھا اور ترچھی نگاہوں سے ان کی بوتل کا مشاہدہ بھی کررہا تھا. مجھے لگتا کہ یہ اب ان کا آخری گھونٹ ہے اور اس کے بعد بوتل میرے حوالے کردیں گے. وہ ایک پہ ایک گھونٹ پیتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بوتل خالی ہوگئی.میں تو آدھی بوتل پہ ناراض ہورہا تھا اور اس حاتم طائی نے مجھے ایک گھونٹ بھی نا چکھایا. بوتل کے خالی ہوتے ہی انہوں نے گفتگو کو بھی اختتام پر پہنچایا اور مجھے چلنے کا اشارہ کیا اور ہم نے واپسی کی راہ لی.ان بارے جو میرے ذہن میں تاثر پیدا ہوا اس کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں. بات ایک بوتل یا آدھی بوتل کی نہیں ہوتی بات اخلاقی فرائض کی ہے آپ اگر کچھ کھاتے پیتے ہیں تو اپنے ساتھ والوں کو شامل کرنا آپ کا اخلاقی فریضہ ہے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اپنا ہو یا پرایا.ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اب یہ ہم پہ ہے ہم اچھے اثرات مرتب کرنا چاہتے ہیں یا ان کا عکس. (جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *