ٹیکس مہنگائی اور حکمرانوں کی ٹیکس کو وصولی

ٹیکس مہنگائی، اور حکمرانوں کی ٹیکس کولیکشن بارے سنجیدگی
۔
پہلی بات جو سمجھنے کی ہے کہ ٹیکسز ہوتی کتنی قسم کی ہیں؟
ٹیکس کی دو قسمیں ہیں
ڈائریکٹ
ان ڈائریکٹ
بنیادی طور پر جو ٹیکس کا تصور ہے وہ یہ کہ مراعات یافتہ لوگوں کی آمدنی پر ٹیکس لگا کر ریاست اپنے لوگوں پر خرچ کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں جو مسئلہ ہے وہ یہ کہ نہ ہمارے ادارے اس قابل ہیں نہ ہمارا اشرافیہ اتنا اچھا کہ خود سے اپنی آمدنی پر ٹیکس دے۔
۔
اب ریاست کو جو آسان طریقہ نظر آتا ہے وہ ہے ان ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر اپنی آمدنی بڑھانا۔
مہنگائی بڑھنے کی وجہ یہی ان ڈائریکٹ ٹیکسز ہیں اسی سے عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔ صابن شیمپو ٹوتھ پیسٹ غرضیکہ ہر چیز پر ہم ان ڈائریکٹ ٹیکس دے رہے ہیں اس کا برڈن عام آدمی ہی اٹھا رہا
۔
اب غضب کی بات یہ کہ موجودۃ حکومت جو کوشش کر رہی وہ ڈائریکٹ ٹیکس بڑھانے کی۔ بجائے یہ بات عوام کو بتا کر اپنا ہم نوا بنایا جاتا کہ ڈایریکٹ ٹیکس بیس بڑھا کر جب امیر ٹیکس نیٹ میں آیئں گے تو الٹیمیٹلی اس کا فائدہ عام آدمی ہی کو ہو گا کیونکہ ہمارے ہاں ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا شرح بہت زیادہ ہے جو کہ دائریکٹ ٹیکس کولیکٹ نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی ادا کرتا ہے
۔
اب ذرا ایک نظر پچھلے حکمرانوں کی سنجیدگی پر بھی ایک نظر دالتے ہیں کہ وہ ڈائریکٹ ٹیکس یعنی لوگوں کی آمدنیوں پر ٹیکس لگا کر ریاستی ریوینیوز بڑھانے میں کس قدر دلچسپی رکھتے تھے
۔
میاں صاحب جو ایٹیز سے ہم پر مسلط ہیں آیئے ذرا ان کی سنجیدگی پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں

1994-95 میں میاں صاحب کی فائل کی گئی ڈاکیومنٹس کے مطابق ان کی صرف ایک ذریعہ آمدن تھی یعنی زرعی آمدنی۔۔۔ اور وہ کتنی ؟؟ مبلغ پانچ ہزار سکہ رائج الوقت پاکستانی۔۔۔۔ چونکہ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں آپ کو دکھانا پڑتا ہے کہ آپ نے گھر کے خرچے کہاں سے پورے کیئے تو اس سال میاں صاحب اتنے غریب تھے کہ گھر کے خرچے مثلا ٹیلفون جلی کے بل، کھانا پینا یہ سب اخراجات میاں صاحب کی سالی محترمہ صبیحہ عباس نے برداشت کیئے۔
۔
جس طرح انہوں نے منی لانڈرنگ کی اور پیسے باہر بھیجے وہاں کمپنیز بنایئں وہاں سے گفٹس اور ریمیٹینسز کی صورت ان پر جو ہن برسنے لگا وہ بارہا بیان کر چکا دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں
۔
آپ یقین کریں گے شاہی داماد محترم صفدر صاحب نے نیشنل ٹیکس نمبر جا کر 2014 میں لیا۔ بات یہ نہیں کہ عام آدمی ٹیکس نہیں دیتا یہ حقیقت ہے یہاں کوئی ٹیکس نہیں دیتا لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کے کندھوں پر اس نظام کو بنانے کی ذمے داری ڈالی گئی۔۔۔

ایس ای سی پی میں جس طرح ان کے خلاف انکوائری چل رہی تھی اور چئیر مین صاحب نے پچھلے ڈیٹس میں جا کر وہ انکوائری ختم کرا دی یہ بھی ریکارڈ پر آ چکا۔
۔
جو خود سسٹم کے چور دروازے استعمال کر کے اس سے فائدے اٹھاتے ہیں انہیں سسٹم کی بہتری سے کیا غرض؟
۔
موجودہ حکومت کی جو جو کوششیں ہیں وہ اس سمت میں ہیں کہ ان جیسے اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لایئں لوگوں کو کنفیوز کرنے کے لئے ایک فقرہ دہرایا جاتا ہے کہ اب صرف سانسوں پر ٹیکس لگانا رہ گیا ۔ حقیقت یہ ہے ایسے فقروں اور پروپگینڈوں کا الٹیمیٹ بینیفشری یہی اشرافیہ ہے جن کو گھیر کر ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش ہورہی ہے۔ عام آدمی کو ان کوششوں کا حصۃ بننا چاہیئے تاکہ وہ ان ڈائریکٹ ٹیکس کی صورت مہنگائی سے محفوظ رہیں۔
۔
یہ تو ایک سرسری جائزہ تھا ان لوگوں کی کوششوں کا جو گزشتہ چالیس سے پچاس سال سے اس سسٹم پر قابض ہیں اب دیکھتے ہیں دس ماہ والی موجودہ حکومت نے کیا کیا یا کر رہی ہے
۔
بے نامی ایکٹ نافذ ہوگیا۔ ایمنسٹی سکیم ختم ہوتی ہی بے نامی جائدادیں بحق سرکار ضبط ہوں گی
۔
40 ہزار سے اوپر کے بانڈز رجسٹر کرنا لازمی ہوگا
۔
سب سے بڑی بات مختلف اداروں کے ذریعے شہریوں کے اثاثوں آمدنیوں لائف سٹائل ، خرچوں فارن ٹورز بارے ڈیٹا اکٹھا گیا اور ساتھ ساتھ شہریوں کو ایکسس دیا گیا کہ وہ دیکھ سکیں کہ حکومت کے پاس آپ کی فنائنشل معلومات ہیں اس لئے بہتر ہے آپ خود ٹیکس نیٹ میں آ جایئں ورنہ آپ کو زبردستی رجسٹر کیا جائے گا۔
۔
اس میں حکومت کیا غلط کرنے جا رہی ہے؟ اگر اشرافیہ، امیر ٹیکس نیٹ میں آ جایئں گے تو غریب کا کیا نقصان جو ان کو کنفیوز کیا جا رہا؟
۔
حکومت پر تنقید بھی کریں سب کا حق ہے لیکن خدارا اس نظام کی بہتری کے لئے اٹھائے گئے اس حکومت کے اچھے اقدامات کی مخالفت اس بنیاد پر نہ کریں کیونکہ آپ حکومت کے مخالف ہیں۔
۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *