گورکھ دھندہ


زندگی کی یہ کیفیت بھی بڑی عجیب و غریب ہے آپ جو کچھ کرنا چاہ رہے ہیں واقع میں اس کا الٹ ہو پارہا ہے. بدی تو بدی آپ نیکی بھی کرتے ہیں تو الٹا آپ کے گلے کا وبال بن جاتی ہے.آپ کے حسن اخلاق کو ہر کوئی اپنی مرضی کا نام دیتا ہے. کوئی آپ کے حسن اخلاق کو مطلب پرستی سے موسوم کرتا ہے تو کوئی آپ کے حسن اخلاق کو چاپلوسی گردانتا ہے. ایسے میں کوئی آپ کے حسن اخلاق کو لالچ جانتا ہے تو کوئی آپ کے حسن اخلاق کو ابن الوقتی کا نام دیتا ہے. آپ کسی کا بھلا کرتے ہیں تو دوسرے اس لئے ناخوش کہ آپ نے اس کا بھلا کیوں کیا؟اور وہ اس لئے ناراض کہ آپ اس کے مطلوبہ معیار پہ نہیں اتر رہے.
آپ اپنے بہن بھائیوں ، رشتہ داروں ، دوستوں، سسرالیوں ، جاننے والوں سب کو خوش رکھنا چاہتے ہیں لیکن ہر ایک آپ سے غیر مطمئن.
بہن بھائی ناراض کہ آپ رشتہ داروں کی طرفداری کرتے ہیں ، رشتہ دار ناراض کہ آپ دوستوں کو ترجیح زیادہ دیتے ہیں ، دوست ناراض کہ آپ کے پاس ہمارے لیے وقت ہی نہیں ، بیوی ناراض کہ آپ آفس کے کاموں کو وقت زیادہ دیتے ہیں ، آفس والے ناراض کہ آفس کے کاموں پہ فوکس کے بجائے سوشل کاموں پہ آپ کی توجہ زیادہ رہتی ہے.
خیر آپ جتنا اچھا بننے کی کوشش کرتے ہیں لوگوں کی ناراضی اتنا آپ کا مقدر بنتی جاتی ہے.
آپ بازار سے دودھ خرید کے لائے ، گھر والے چائے بنانے لگے تو دودھ خراب نکلا. آپ سودا سلف لائے گھی اعلی کوالٹی کا کہا تھا لیکن اس نے ناقص کوالٹی کا ڈال دیا. آپ سفر پہ تھے کرایہ کے لئے کنڈیکٹر کو ہزار کا نوٹ دیا اس نے کمال مہارت سے آپ کا نوٹ چھپا کر نقلی نوٹ نکال کر شور برپا کردیا کہ اتنے معزز ہوکر نقلی نوٹ دے رہے ہو، نقلی نوٹ کے ساتھ ساتھ آپ کو طعن و تشنیع بھی برداشت کرنا پڑی…
الغرض آپ سونے کو بھی ہاتھ لگاتے ہیں تو وہ مٹی بن جاتا ہے ، ہر کامیابی ناکامی میں بدلتی نظر آتی ہے اور ہر بھلائی اپنے ساتھ برائی کھینچ لاتی ہے…
تو ایسی صورت میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں یہ قدرت کی مہربانی کی نشانی ہے
گھوڑے کی آنکھوں کے سائیڈ پر کالی پٹیاں باندھتے ہوئے شاید گھوڑے کو یہ لگا ہو کہ اس کی زندگی کی رنگینیاں ختم کی جارہی ہیں لیکن درحقیقت یہ اس کی توجہ دائیں بائیں شائیں سے ہٹا کر منزل کی جانب مبذول کروائی جارہی ہوتی ہے.
ایسے ہی یہ چھوٹی چھوٹی تکالیف ہماری زندگی کی رنگینیاں ختم کرنے نہیں بلکہ یہ وہ کالی پٹیاں ہیں جو ہماری توجہ غیر سے ہٹا کر محض منزل مقصود کی جانب مبذول کرانے کیلئے ہیں. بس ہم نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ،راستے کی ان جھاڑیوں سے الجھے بغیر ،نیکیوں کے چراغ کو ہاتھ میں تھامے اپنی پوری توجہ اپنی منزل پر مرکوز رکھنی ہے. اللہ تعالیٰ ضرور ایک دن اپنے مقاصد میں کامیابی سے سرخرو فرمائے گا.ان شاء اللہ تعالیٰ
18/06/2019

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *