واہ ریاست کا یہ کیسا دن ہے

واہ ری سیاست یہ کیسا دن ہے۔۔۔22 کروڑ عوام کو گواہ بنا کر زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹا ہوا پیسہ نکالنے کا نعرہ لگانے والا زرداری کی گرفتاری کے آدھ گھنٹے میں ہی اس کا وکیل بن کر اسمبلی میں کھڑا ہو گیا۔۔۔گرفتاری بھی اس پیسے کو نکلوانے کے لیے ہوئی جو موصوف 3 بار بھرپور وعدوں کے باوجود صاحب اقتدار ہو کر نا نکلوا سکا۔۔۔اگر شہباز شریف میں شرم اور حیا ہوتی تو کم از کم اپنی تقریر کا آغاز تھینکس عمران خان کہہ کر کرتا کہ جو میں چاہتے ہوئے نا کر سکا میری خواہش کو آپ پورا کر رہے ہو۔۔۔لیکن شریفوں کی سیاست شرم اور حیا کے خاتمے سے شروع ہوتی ہے۔۔چلو تھوڑی دیر کے لیے مان لو سیاست بے رحم ہوتی ہے اقتدار کا کوئی ضابطہ یا اخلاق نہیں ہوتا۔۔۔تو پھر آگے بڑھنے سے پہلے یہ تو تسلیم کرو نا کہ ہم پچھلے 40 سال عوام کو پھدو لگاتے رہے ہیں۔۔شہباز شریف کو اپنا انجام زرداری جیسا نظر آ رہا ہو گا۔۔اسے لگتا ہے کہ میں آج زرداری کے لیے آنسو بہاوں گا تو میری گرفتاری پر بلاول روئے گا۔۔۔پاکستان نہیں تو کم از کم لاڑکانہ کے اندر بیٹھ کر ہی آواز اٹھائے گا۔۔لیکن پورے ملک سے پٹواریو تمھیں کیا ہو گیا ہے تمھاری کونسی مجبوری ہے کہ کل زرداری کا پیٹ پھاڑنے کے نعرے پر دھمالیں ڈالتے تھے آج تم نے بھی زرداری کے سوگ کو اپنا لیا ہے۔۔اس وقت پورے ملک میں جیالے اور متوالے اس طرح ٹانگیں پھنسا کر پھر رہے ہیں کہ جاننا مشکل ہے یہ سر کس بیشرم کا اور دھڑ کس منحوس کا ہے۔۔۔۔۔۔

اپوزیشن کبھی بھی احتجاج کے لیے باہر نہیں نکل سکے گی۔۔یہ عوام کو تپتی سڑکوں پر لانے کے لیے بیچیں گے کیا۔۔۔مہنگائی کوئی ایشو نہیں پہلے کونسی شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں جو اب بند ہو گئی ہیں۔۔یہ جب بھی عوام کے پاس جائیں گے کم از کم اپنی 1 اچھائی کوئی کریڈٹ کوئی نعرہ کہ ہم نے فلاں ادارہ یا فلاں محکمہ آسمان تک پہنچایا تھا اور PTI نے دس مہینوں میں گرا دیا ہے۔۔۔میرا ابو جیل میں میرا تایا جیل میں یہ چورن اب نہیں بکنے والا۔۔۔عمران خان اپنی اپوزیشن اور حکومت دونوں میں عوام کو اپنے ووٹروں کو قائل کر چکا ہے کہ ملک پر مشکل حالات ہیں محب وطن لوگ حکومت کی مجبوری اور ان حالات کے ذمہ داروں کو بخوبی پہچانتے ہیں۔۔۔یہ اس عید اور اگلی عید تک تاریخیں دیتے رہے جائیں گے جبکہ نیب کے پاس انکی گنتی بڑھتی جائے گی۔۔پیچھے سینکڈ یا تھرڈ لیول کی قیادت کا دماغ خراب ہے کہ ایک کے پیو اور دوسرے کے تایا کے لیے ریاست سے جوتے کھاتی پھرے ۔۔۔۔۔

میں ہمیشہ کہتا ہوں یہ فیز ملک میں مثبت تبدیلی اور ترقی کا ہے۔۔۔انشااللہ بہت جلد مشکل حالات ڈھلنا شروع ہو جائیں گے۔۔PTM کے خلاف باقاعدہ اور حتمی آپریشن شروع ہو چکا ہے۔۔ایک ایک کر کے گرفتار ہونے والے اپنے کیے کی سزا بھگت کر ہی مکتی پائیں گے۔۔۔لیکن انکے اتنے سنگین جرائم ہیں کہ اب انکا ذکر RAW اور NDS کی فائلوں میں ہی ہو گا۔۔عمران خان کی ایمانداری خلوص اور سب کچھ بدل دینے کی لگن سے اگر آپ واقف ہیں۔۔آپ چاہتے ہیں ملک کے حالات بہتر سے بہترین ہوں تو صبر کیجئے۔۔۔اپنے وطن اپنی دھرتی کے نام پر کچھ چیزیں برداشت کیجیے۔۔۔قوموں کی ترقی ہمیشہ مشکلات سر کرنے کے بعد آتی ہے۔۔آپ بھی ان مشکلات کو اچھے کل کی امید میں سہہ جائیں۔۔کسی کے پیو کسی کے تایا کے گناہوں کا ایندھن بننے سے پہلے غیر جانبدار ہو کر فیصلہ ضرور کریں انہوں نے پچھلے 40 سالوں میں کیا دیا ہے جو خان ان 10 مہینوں میں نہیں دے سکے۔۔۔اس ملک میں عزت روٹی سے بڑی پرانی سستی ہے۔۔اب عزت کو اپنی متاع بنانے کے لیے اپنے وطن کا ضرور ساتھ دیں۔
۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *