اپنے آس پاس کا خیال رکھیں

میں پٹرول پمپ سے تیل ڈلوا کر چلنے لگا تو وہاں کھڑے ملازم نے ایک نابینا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا انہیں اڈا تک لیتے جائیں گے۔ میں نے حامی بھر لی۔ اس نابینا شخص نے بیٹھتے ہی دعائیں دینا شروع کردیں میں اگرچہ جلدی میں تھا لیکن اس کی دعاؤں سے محظوظ ہونے کے لئے میں نے بائیک کی سپیڈ آہستہ کرلی۔وہ سانس لینے کیلئے رکا تو میں نے مانوسیت بڑھانے کے لیے پوچھ لیا حافظ صاحب کیا کام کرتے ہیں، ہمارے ہاں نابینا کو حافظ صاحب کہا جاتا ہے۔ میرے استفسار پر انہوں نے طویل ٹھنڈی سانس بھری اور اپنی دکھ بھری کہانی سنانا شروع کردی۔ کہنے لگے چھ بچیاں ہیں اور ایک بیٹا۔ بیٹا چھوٹا ہے اور بیٹیاں بڑی۔ ہوٹل پہ محنت مزدوری کیا کرتا تھا کہ لکڑیاں کاٹتے ایک ٹکڑا آنکھ میں جالگا۔علاج شروع کیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی،کا مصداق بیماری بڑھتی گئی یہاں تک کہ وہ آنکھ مکمل ناکارہ ہوگئی اور شومئ قسمت شعاع کے غلط استعمال کی وجہ سے دوسری آنکھ بھی بے نور ہوگئی۔
اب نہ محنت مزدوری ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی اور ذریعہ معاش ہے۔ مانگنے کی عادت نہیں لیکن مجبوری کے عالم میں دوست احباب کے ہاں چلا جاتا ہوں ، دست سوال دراز نہیں کرتا ہاں میری حالت و کیفیت دیکھ کر جو دے دے تو لے لیتا ہوں۔
اڈا آچکا تھا اور اس نے وہاں اترنا تھا میں نے اس سے سیل نمبر لے لیا اور وہاں اس کو اتار کر اپنے کام کو چل دیا۔ انہیں دنوں ہم نے غرباء میں راشن تقسیم کرنا تھا تو میں نے اس سے رابطہ کرکے اس کو بھی پیش کیا۔ اس کی خوشی دیدنی تھی۔ اس نے پھر کچھ دن پہلے رابطہ کیا ہے اس کا کہنا تھا کہ میں نے محض سلام دعا کے لئے کال کی ہے لیکن اس کی آواز کی لجاجت واضح پیغام دے رہی تھی۔ جس سے مجھے واصف حسین واصف کا وہ قول یاد آگیا “ایسے لوگوں کی مدد کرو جن کا چہرہ سوال ہوتا ہے اور زبان بے سوال ہوتی ہے۔
ارادہ یہ ہے کہ ان غریبوں کے لیے ہر ماہ کچھ نہ کچھ انتظام کیا جائے ، دعاؤں کی التماس ہے کہ اللہ تعالی آسانیاں عطا فرمائے اور اس کار خیر کے اسباب مہیا ہوجائیں۔آمین ثم آمین یا رب العلمین.
طالب دعا؛
✍ فانوس صفدر سید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *