انوکھی_اصلاح

رمضان المبارک کا آخری عشرہ چل رہا تھا، اس کا دل لوگوں کو عبادات کرتے، مساجد آتے جاتے اور سحر وافطار کے مناظر کو دیکھ کے پسیج چکا تھا. اس نے مسجد جانے کا عزم کیا لیکن نا جانے دل پہ کیا گزرا کہ اگلے لمحے اس نے اپنا ارادہ ترک کردیا. پھر اندر ہی اندر جنگ چھڑ گئی. ایک لمحے ارادہ بندھتا تو دوسرے لمحے ترک بھی ہوجاتا.کافی دیر اسی کیفیت میں رہنے کے بعد بالآخر اس نے مسجد جانے کی ٹھان ہی لی. مؤذن نے آذان شروع کی اور ادھر یہ مضطرب دل اور بوجھل جسم کے ساتھ مسجد کو چلنے لگا. دل میں ایک عجیب سا خوف تھا ساری زندگی گناہوں کی دلدل میں گزری تھی اب نیکی کی طرف رجوع کرتے ہوئے نا جانے کیوں دل پریشان سا ہواجاتا تھا. خیر مسجد سامنے تھی اور اب وہ مین گیٹ میں داخل ہورہا تھا. گیٹ سے داخلے کے بعد وہ واش رومز کی طرف بڑھا تو اس کی حیرت کی انتہاء نا رہی کہ سب لوگ مشکوک نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے. واش رومز پہ رش تھا تو ایک صاحب نے جب واش روم خالی ہوا تو طنزًا دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے واش روم میں جانے کی دعوت دی. یہاں سے فراغت کے بعد جب وہ وضو خانے پہنچا تو اس کو دیکھ کر سب لوگوں کہ چہرے پہ عجیب ہنسی تھی اور وہ ایک دوسرے کو کہنیاں مار کر اس کی طرف اشارے کررہے تھے. لوگوں کا پلٹ پلٹ کر دیکھنا اور عجیب سی مسکراہٹ اس کی حیرت اور پریشانی میں مسلسل اضافہ کیے جارہی تھی. وضو کرنے کے بعد وہ صف میں جاکر بیٹھ گیا ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ساتھ بیٹھے حاجی صاحب دبی دبی ہنسی کے ساتھ گویا ہوئے “سچ کہتے ہیں رمضان المبارک میں شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں ، آج تمہیں مسجد میں دیکھ کر اس بات پہ یقین پختہ سا ہوگیا ہے”. اس بات کا سننا تھا کہ اس کا دل کرچیاں کرچیاں ہوگیا اور وہ شرمندگی کے آنسؤوں کو بڑی مشکل سے ہی روک پایا. جماعت شروع ہوئی اور اس کے دل پہ عجیب سی کیفیات طاری رہیں اور وہ یہ ہی سوچتا رہا کیا اللہ کے گناہ گار بندوں کا داخلہ ہی بند ہے. جماعت ہوچکی تھی، دعا کے بعد وہ امام صاحب سے مصافحہ کرنا چاہتا تھا، ڈرتے ڈرتے اس نے اپنے گناہوٮ سے بھرے ہاتھ جب امام صاحب کی طرف بڑھائے تو امام صاحب نے آخری کیل ٹھونستے ہوئے فرمایا برخوردار آج کل بارش کی اشد ضرورت تھی، شکر ہے تم نے مسجد میں قدم رکھ دیا اب تو بارش آکر ہی رہے، ساتھ کھڑے لوگوٮ نے قہقہہ لگایا اور وہ شرمندگی ، افسوس اور بوجھل پن کی انتہاء کو پہنچ چکا تھا. وہ وہاں سے تیز قدموں سے چلا،ابھی گیٹ کے پاس پہنچا ہی تھا کہ وہاں ایک نوجوان نمازی نے پھبتی کسی بھیا آج ہی تو مسجد آنا نصیب ہوا پھر اتنی ہی جلدی کیا ہے. اب وہ اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا گھر آکر وہ تنہائی میں چلا گیا ، وہ غفور و رحیم ذات کی بارگاہ میں اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہتا تھا، وہ اس ذات کی بارگاہ میں اپنا دکھڑا پیش کرنا چاہتا تھا جو دشمن کے بھول سے نکلے یا صنم کے بجائے یاصمد کے بدلے ستر مرتبہ یا عبدی یا عبدی فرمائے. وہ اللہ تعالی کے حضور یہ التجاء کرنا چاہتا تھا کہ مالك جب تو گناہگاروں پہ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا تو یہ بندے کیوں مقفل کیے بیٹھے ہیں.

محترم نئے آنے والوں کو بھی محبت دیجئے، حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ ان سے سلوک کیجئے. اللہ تعالی کے ہر بندے کو اپنے سے بہتر سمجھیں، کیا معلوم اللہ تعالی کو کس کا کونسا عمل قبول ہو.
✍️ فانوس صفدر سید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *