مسکینوں،ناداروں اور محتاجوں کو بھی ان خوشیوں میں شریک کرنے کے لئے خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے

نادارسادات (قند مکرر)

سلام۔ احباب اللہ کریم نے مجھے اپنی بہت سی نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے خوش گوار زندگی گزار رہا ہوں اس تمہید سے مقصود آپ کی توجہ ایک نہایت نازک مسئلہ کی طرف مبذول کرانا ہے کہ جب بھی رمضان المبارک یا عید مبارک ایسا خوشی کا موقع آتا ہے تو مخیر حضرات اور مختلف فاؤنڈیشنز کی طرف سے یتیموں،
مسکینوں،ناداروں اور محتاجوں کو بھی ان خوشیوں میں شریک کرنے کے لئے خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے کوئی راشن تقسیم کرتاہے تو کوئی ملبوسات۔ کوئی نقدی کی صورت میں دینا پسند کرتاہے تو کوئی ضروریات زندگی کی اشیاء۔ خیر کسی نہ کسی طریقے سے محتاجوں کو خوشیوں میں شریک کیا جاتا ہے اور یہ اتنا اچھا کام ہے کہ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے لیکن ان محتاجوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کو ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے اور وہ ہے مفلوک الحال سادات کا طبقہ۔ کیونکہ زکوۃ کے وہ مستحق نہیں اور شاید اپنی توجہات کا مستحق ہم ان کو سمجھتے نہیں۔ گھر کا فرد ہونے کی حیثیت سے اس درد کو مجھ سے زیادہ کوئی محسوس نہیں کرسکتا کہ ایک غریب سید کے اوپر کیا کچھ گزرتی ہے اور مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم ان سے اتنی بڑی نسبت کا کفارہ ادا کروا رہے ہیں یا اپنی محبت کا ثبوت۔
ہر کلام میں استثناء ضرور ہوتا ہے لیکن ہماری اکثریت اس درد کو محسوس کرنے سے دور ہے۔
بس میری یہ التماس ہے کہ خوشیوں کے موقعوں پر جہاں اور ناداروں کو یاد رکھیں وہاں نادار سادات کو بھی ضرور یاد رکھیں۔
(یہ کوئی باقاعدہ تحریر نہیں محض میرا درد دل ہے جس کے لئے مناسب الفاظ کا چناؤ نہیں کرسکا،شاید کے تیرے دل میں اتر جائے بات میرئ۔۔۔ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *